واپس
رمضانیات۔۔۔ لیلۃ القدر۔۔۔ فرشتے اور روح کس پر نازل ہوتے ہیں؟

رمضانیات۔۔۔ لیلۃ القدر۔۔۔ فرشتے اور روح کس پر نازل ہوتے ہیں؟

اہلِ بیت علیہم السلام کے عقیدے کی ایک نہایت مضبوط اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں فرشتوں اور روح کا نزول صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں جو عہدِ رسالت کے ساتھ ختم ہو گیا ہو، بلکہ یہ ایک زندہ اور جاری الٰہی سنت ہے جو ہر سال وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اسی تسلسل کے تحت یہ نزول ہر زمانے کے امام پر ہوتا ہے؛ رسولِ اکرم ﷺ کے زمانے میں آپ کے قلبِ اطہر پر، اور آپ کے بعد یکے بعد دیگرے ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام پر

الشيخ مقداد الربيعي

اہلِ بیت علیہم السلام کے عقیدے کی ایک نہایت مضبوط اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں فرشتوں اور روح کا نزول صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں جو عہدِ رسالت کے ساتھ ختم ہو گیا ہو، بلکہ یہ ایک زندہ اور جاری الٰہی سنت ہے جو ہر سال وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اسی تسلسل کے تحت یہ نزول ہر زمانے کے امام پر ہوتا ہے؛ رسولِ اکرم ﷺ کے زمانے میں آپ کے قلبِ اطہر پر، اور آپ کے بعد یکے بعد دیگرے ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام پر۔ اس حقیقت کی تائید امیرالمؤمنین علیہ السلام سے مروی اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں:

(إِنَّ لَيْلَةَ القَدْرِ فِي كُلِّ سَنَةٍ، وَإِنَّهُ يَنْزِلُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ أَمْرُ السَّنَةِ، وَإِنَّ لِذَلِكَ الأَمْرِ وُلاةً بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وآله، فقلتُ: مَنْ هُمْ؟فَقَالَ: أَنَا وَأَحَدَ عَشَرَ مِنْ صُلْبِي، أَئِمَّةٌ مُحَدَّثُونَ۔) (الكافي: ج١، ص٢٤٧-٢٤٨، ح٢.)

بے شک لیلۃ القدر ہر سال آتی ہے، اور اس رات سال کے تمام امور نازل کیے جاتے ہیں، اور ان امور کے لیے رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی والی (ذمہ دار ہستیاں) موجود ہیں۔ راوی عرض کرتا ہے: وہ کون ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ہوں، اور میری نسل سے گیارہ افراد جو ائمہ ہیں اور (الٰہی امور سے) آگاہ کیے جاتے ہیں۔

اس مفہوم کی تائید خود سورۂ قدر کے واضح بیان سے بھی ہوتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ )۔ (القدر:۴) فرشتے اور روح اس شب میں اپنے رب کے اذن سے تمام (تعیین شدہ) حکم لے کر نازل ہوتے ہیں۔

یہاں فعل "تَنَزَّلُ" مضارع کے صیغے میں آیا ہے، جو استمرار اور تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ فرشتوں اور روح کا یہ نزول کوئی ایسا واقعہ نہیں جو اپنے وقت کے ساتھ ختم ہو گیا ہو، بلکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی حقیقت ہے، جو ہر لیلۃ القدر میں قیامت تک برقرار رہے گی۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اور نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آخر وہ کیا راز ہے کہ اس نزول کے لیے امامِ معصوم ہی کو مخصوص کیا گیا؟ اور کیوں فرشتے خصوصاً انہی پر نازل ہوتے ہیں، کسی اور پر نہیں؟

اس سوال کا جواب ہمیں اہلِ بیت علیہم السلام کے ان بلند مقامات کو سمجھنے سے ملتا ہے، جنہیں قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

وہ اسماء جن تک فرشتوں کی رسائی نہ ہو سکی

قرآنِ حکیم تخلیقِ انسان کے حوالے سے ایک ایسا عظیم اور پُرہیبت منظر پیش کرتا ہے، جس کی تہوں میں اس سوال کا گہرا اور فیصلہ کن جواب پوشیدہ ہے۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 (وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ، قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ، قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ) (البقرۃ: ۳۰۔۳۳)

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟ جب کہ ہم تیری ثناء کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: (اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور (اللہ نے) آدم کو تمام نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا پھر فرمایا : اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا: تو پاک و منزہ ہے جو کچھ تو نے ہمیں بتا دیا ہے ہم اس کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ یقینا تو ہی بہتر جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (اللہ نے) فرمایا: اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان کے نام بتلا دو، پس جب آدم نے انہیں ان کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہوں نیز جس چیز کا تم اظہار کرتے ہو اور جو کچھ تم پوشیدہ رکھتے ہو، وہ سب جانتا ہوں۔

یہ آیات ایک نہایت عمیق حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو ایسے اسماء کا علم عطا فرمایا جو فرشتوں کی دسترس سے باہر تھے۔ جب یہ اسماء ان کے سامنے پیش کیے گئے تو وہ اپنی کامل عبادت اور طہارت کے باوجود اس علم کے ادراک سے عاجز رہے، اور انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس وہی علم ہے جو اللہ نے انہیں عطا فرمایا ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسانِ کامل کی حقیقت نمایاں ہوتی ہے، وہ ہستی جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے لیے منتخب فرمایا، اور جسے ایسا علم اور مقام عطا کیا جو فرشتوں کی رسائی سے بھی بلند ہے۔ اسی پُرہیبت قرآنی منظر میں ایک نہایت گہری حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو منصبِ خلافت کے لیے جس دلیل پر منتخب فرمایا، وہ یہی تھی کہ وہ ان اسماء کے ادراک اور احاطے کی صلاحیت رکھتے تھے، وہ اسماء جن تک رسائی سے فرشتے بھی قاصر رہے، باوجود اس کے کہ وہ تسبیح و تقدیس کے بلند ترین مراتب پر فائز تھے۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ  آخر یہ آسماء کیا ہیں؟

جب ہم اس ارشادِ الٰہی میں تدبر کرتے ہیں: (قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ )

کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں خوب جانتا ہوں۔

تو یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ یہ اسماء دراصل وہ حقائق ہیں جو پردۂ غیب میں مخفی  ہیں، جن کا کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جن کا ادراک اس نے اپنے خاص فضل سے حضرت آدمؑ کو عطا فرمایا۔

مزید یہ کہ قرآنِ حکیم ان اسماء کے لیے ضمیرِ عاقل استعمال کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: (ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ) پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ اور: (أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ) تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔ یہ تعبیر خود اس حقیقت کو واضح  کرتی ہے کہ یہ محض جامد اشیاء نہیں، بلکہ ایسے حقائق یا موجودات ہیں جو شعور و ادراک رکھتے ہیں۔ اسی دقیق نکتے کی طرف علامہ طباطبائیؒ نے نہایت باریک بینی سے اشارہ کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ)۔ اس  بات کی طرف اشارہ کرتا  ہے کہ یہ اسماء، یا ان کے مسمّیات ایسے زندہ اور صاحبِ شعور موجودات تھے جو پردۂ غیب میں مخفی  تھے۔( الميزان في تفسير القرآن: ج١، ص116)

روایات کی روشنی میں “اسماء” کی حقیقت

قرآنِ حکیم میں مذکور ان اسرار آمیز “اسماء” کی حقیقت کو اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات نہایت وضاحت اور جلال کے ساتھ منکشف کرتی ہیں، اور اس باب کی گہرائیوں کو ہمارے سامنے کھول دیتی ہیں۔ چنانچہ معانی الاخبار میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:(إِنَّ الله عز وجل علّم آدم أسماء حججه كلها ثم عرضهم وهم أرواح على الملائكة فقال: أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ بأنكم أحق بالخلافة في الأرض لتسبيحكم وتقديسكم من آدم، فقالوا: سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ. قال الله تبارك وتعالى: يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ، فلما أنبأهم بأسمائهم وقفوا على عظيم منزلتهم عند الله عز ذكره، فعلموا أنهم أحق بأن يكونوا خلفاء الله في أرضه وحججه على بريَّته، ثم غيَّبهم عن أبصارهم واستعبدهم بولايتهم ومحبَّتهم)۔ (علل الشرائع ج:۱۴)

 اللہ عزوجل نے حضرت آدمؑ کو اپنے تمام حجج کے اسماء تعلیم فرمائے، پھر ان ہستیوں کو، جبکہ وہ ارواح کی صورت میں تھیں۔ فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور فرمایا: اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اپنی تسبیح و تقدیس کی بنا پر زمین میں خلافت کے آدمؑ سے زیادہ حق دار ہو، تو ان کے نام مجھے بتاؤ۔ فرشتوں نے عرض کیا: تیری ذات پاک ہے! ہمیں کوئی علم حاصل نہیں مگر وہی جو تو نے ہمیں عطا فرمایا؛ بے شک تو ہی کامل علم والا، حکمت والا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! انہیں ان کے نام بتاؤ۔ چنانچہ جب آدمؑ نے ان کے اسماء بیان کیے تو فرشتوں پر ان ہستیوں کی عظمت، رفعتِ مقام اور قربِ الٰہی آشکار ہو گیا۔ اس لمحے انہوں نے جان لیا کہ یہی مقدس ہستیاں اللہ کی زمین میں اس کی خلافت کے حقیقی اہل ہیں، اور اس کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا، اور ان کی ولایت و محبت کو ان پر لازم قرار دے کر انہیں آزمائش میں مبتلا فرمایا۔

ان روایات کے پہلو بہ پہلو بعض دیگر روایات بھی وارد ہوئی ہیں جو ان “اسماء” کی ایسی تفسیر بیان کرتی ہیں جو بظاہر پہلی تعبیر سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ ان روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو زمینوں، پہاڑوں، وادیوں، نباتات اور تمام مخلوقات کے ناموں کا علم عطا فرمایا۔ چنانچہ ابو العباس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں دریافت کیا: (وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا) تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:زمینیں، پہاڑ، گھاٹیاں اور وادیاں۔پھر آپ نے اپنے زیرِ نشست فرش کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: یہ فرش بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کا علم آدمؑ کو دیا گیا تھا۔ ( تفسير العياشي: ج1، ص344)

اسی مفہوم کو ایک اور روایت میں، جو فضیل بن عباس کے واسطے سے منقول ہے، مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جب اسی آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: وادیوں، نباتات، درختوں اور زمین کے پہاڑوں کے نام۔ یہ اسلوب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ “اسماء” کا دائرہ محض مجرد مفاہیم تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام مظاہرِ کائنات کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ گویا آدمؑ کو ایک ایسا جامع علم عطا کیا گیا جو حقائقِ غیبیہ سے لے کر مظاہرِ مادیہ تک، ہر درجے کو محیط ہے۔

بظاہر پہلی نظر میں ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ ان دونوں طرح کی روایات کے درمیان کوئی تعارض پایا جاتا ہے، لیکن جب ہم اس ارشادِ الٰہی میں غور کرتے ہیں تو یہ اشکال خود بخود رفع ہو جاتا ہے: (وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ) ۔ (الحجر: ۲۱) اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں پھر ہم اسے مناسب مقدار کے ساتھ نازل کرتے ہیں۔

یہ آیت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ عالمِ مادہ میں موجود ہر چیز دراصل ایک اعلیٰ اور غیبی حقیقت کا پرتو ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خزائن میں موجود ہے، اور جب وہ اس دنیا میں ظاہر ہوتی ہے تو ایک معین تقدیر اور محدود صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی بنیاد پر سمجھ آتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام ان اعلیٰ حقائق کے مظاہر اور اللہ کے اسماءِ حسنیٰ اور اس کی حجتیں ہیں، جو عالمِ غیب میں اپنی بلند ترین صورت میں موجود ہیں۔ چنانچہ اس دنیا کی ہر شے، ہر نام اور ہر مظہر اپنی حقیقت میں انہی اعلیٰ حقائق کی طرف رجوع کرتا ہے۔

لہٰذا چاہے یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو اپنے حجج، یعنی اہلِ بیت علیہم السلام کے اسماء سکھائے، یا یہ کہا جائے کہ انہیں تمام اشیاء کے اسماء تعلیم فرمائے گئے، حقیقت میں دونوں تعبیرات ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں، اور دونوں کا حاصل ایک ہی ہے۔

اہلِ بیت: فیضِ الٰہی کے واسطے

اسی بنیاد پر ایک نہایت روشن حقیقت سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ لیلۃ القدر میں نازل ہونے والے تمام مقدّرات کو امامِ معصوم کی ذات سے کیوں وابستہ کیا جاتا ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کو محض ایسے برگزیدہ انسان سمجھ لینا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے امامت کے منصب کے لیے منتخب فرمایا ہو، درحقیقت ان کے حقیقی مقام کو محدود کر دینے کے مترادف ہے۔ حقیقت اس سے کہیں بلند اور وسیع ہے۔وہ اس نظامِ ہستی میں وسائطِ فیضِ الٰہی ہیں؛ یعنی وہ پاکیزہ ہستیاں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت، ہدایت اور تکوینی تدبیر کے ظہور کا ذریعہ بنایا ہے۔ کائنات میں جو کچھ بھی فیض، رحمت، ہدایت یا تقدیر کی صورت میں جاری ہوتا ہے، وہ ایک منظم الٰہی نظام کے تحت انہی مقدس ہستیوں کے وسیلے سے اپنے مقررہ مقام تک پہنچتا ہے۔اسی لیے لیلۃ القدر میں جب سال بھر کے امور، فیصلے اور تقدیریں نازل کی جاتی ہیں، تو وہ براہِ راست ایک ایسے مرکز پر اترتی ہیں جو اس فیض کو سمجھنے، سنبھالنے اور اس کے مطابق تدبیرِ کائنات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہو، اور وہ مرکز امامِ معصوم کی ذات ہے۔

یوں اہلِ بیت علیہم السلام کا مقام محض روحانی پیشواؤں کا نہیں، بلکہ وہ اس الٰہی نظام کے مرکزی ستون ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کو عالمِ خلق میں جاری فرماتا ہے۔اس حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے مروی ایک روایت نہایت خوبصورتی کے ساتھ روشن کرتی ہے۔

جب  رسولِ اکرم ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلی چیز کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے جابر! سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تیرے نبی کا نور پیدا فرمایا۔ پھر اس نور کو پیدا کرنے کے بعد اسی سے ہر خیر کو وجود بخشا۔ اس کے بعد اسے اپنے حضور مقامِ قرب میں رکھا، جتنا اللہ نے چاہا۔ پھر اسے تقسیم کیا: ایک حصے سے عرش کو پیدا کیا، ایک حصے سے کرسی کو، اور ایک حصے سے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں اور کرسی کے رہنے والوں کو۔ اور چوتھے حصے کو مقامِ محبت میں رکھا، جتنا اللہ نے چاہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور پر جلال و ہیبت کی نظر فرمائی، تو اس نور سے پسینہ جاری ہوا، اور اس سے ایک لاکھ چوبیس ہزار قطرے ٹپکے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہر قطرے سے ایک نبی یا رسول کی روح کو پیدا فرمایا۔ پھر انبیاء کی ارواح نے سانس لیا، تو ان کے ان انفاس سے اللہ تعالیٰ نے اولیاء، شہداء اور صالحین کی ارواح کو پیدا فرمایا۔(بحار الأنوار: ج54 ، ص 170، ح 117)

یہ روایت اس حقیقت کی طرف گہرا اشارہ کرتی ہے کہ کائناتِ ہستی کا پورا نظام ایک نورانی و الٰہی اصل سے پھوٹا ہے، اور وہی اصل آگے چل کر مختلف مراتب میں ظاہر ہوتی ہے، یعنی فیضِ الٰہی ایک مرکز سے جاری ہو کر پوری مخلوق میں پھیلتا ہے۔یوں اس حقیقت کا نہایت حسین اور گہرا راز منکشف ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر میں فرشتے اور روح امامِ معصوم پر کیوں نازل ہوتے ہیں۔وہ اپنی وجودی رفعت، مقامِ قرب اور فیضِ الٰہی کے واسطہ ہونے کی حیثیت سے وہ مرکزی ہستی ہیں جن کی طرف سال بھر کے تمام مقدّرات رجوع کرتے ہیں، اور جن کے سپرد کائنات کے اسرار کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے اس مبارک رات میں جو کچھ بھی مخلوقات پر نازل ہوتا ہے، خواہ وہ رزق ہو یا اجل، سعادت ہو یا شقاوت۔وہ سب ایک منظم الٰہی نظام کے تحت انہی پاکیزہ ہستیوں کے وسیلے سے اپنے مقررہ مقامات تک پہنچتا ہے۔پس وہی وہ محور ہیں جن کے گرد لیلۃ القدر کی حقیقت گردش کرتی ہے، اور وہی وہ قطب ہیں جن پر اس رات کے اسرار اور انوار نزول پذیر ہوتے ہیں۔


شیئر: