شیخ مقداد الربیعی
لیلۃ القدر کی سب سے نمایاں عظمت اور اس کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ وہ مقدس رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے نزول کے لیے منتخب فرمایا۔ یہی وہ عظیم کتاب ہے جسے اللہ نے تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور ایسا روشن چراغ بنایا ہے جس کی روشنی میں وہ زندگی کی تاریکیوں میں اپنا راستہ پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ) (البقرۃ: ۱۸۵)۔
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ایسے دلائل پر مشتمل ہے جو ہدایت اور(حق و باطل میں)امتیاز کرنے والے ہیں۔ اور اس بابرکت رات کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:(إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ، فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ، أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ، رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) (الدخان: ۳۔۶)
ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے، یقینا ہم ہی تنبیہ کرنے والے ہیں۔ اس رات میں ہر حکیمانہ امر کی تفصیل وضع کی جاتی ہے۔ایسا امر جو ہمارے ہاں سے صادر ہوتا ہے (کیونکہ) ہمیں رسول بھیجنا مقصود تھا۔ (رسول کا بھیجنا) آپ کے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر، وہ یقینا خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔پھر اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا: (إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ). (القدر:۱) ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ۔
تاہم یہ قرآنی حقیقت انسان کے ذہن میں ایک نہایت عمیق اور قابلِ غور سوال کو جنم دیتی ہے: آخر یہ کیسے کہا جاتا ہے کہ قرآن ایک ہی رات میں نازل ہوا، جبکہ سیرتِ طیبہ اور اسلامی تاریخ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآنِ مجید تدریجاً پورے تئیس برس کے عرصے میں نازل ہوا، اور یہی وہ مدت ہے جس پر دعوتِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم محیط ہے؟ مزید یہ کہ خود قرآنِ حکیم بھی اس تدریجی نزول کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا) (الاسراء: ۱۰۶) اور قرآن کو ہم نے جدا جدا رکھا ہے تاکہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے۔
دو نزول، ایک نہیں،اسی میں اشکال کا حل ہے۔
درحقیقت یہ اشکال قرآنِ حکیم میں غور و تدبر کرنے سے خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم کا نزول ایک نہیں بلکہ دو مختلف مرحلوں میں ہوا ہے۔
پہلا نزول وہ ہے جو ایک ہی بار، اجمالی طور پر، شبِ قدر کی بابرکت رات میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلبِ مبارک پر ہوا۔ جبکہ دوسرا نزول تدریجی اور تفصیلی تھا، جو پورے تئیس برس پر محیط رہا۔ یہ نزول حالات، واقعات اور دعوتِ نبوی کے تقاضوں کے مطابق وقتاً فوقتاً ہوتا رہا، تاکہ ہدایت کا پیغام مرحلہ وار اور مؤثر انداز میں انسانوں تک پہنچ سکے۔ یوں قرآنِ کریم کا یہ دوہرا نزول نہ صرف اس ظاہری اشکال کو دور کرتا ہے بلکہ اس کی حکمت اور تاثیر کو بھی واضح کر دیتا ہے۔
قرآنِ کریم خود بھی ایک لطیف لفظی اشارے کے ذریعے اس فرق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ چنانچہ جہاں یکبارگی اور اجمالی نزول کا ذکر مقصود ہو، وہاں(اِنزال) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ) (البقرۃ:۱۸۵) رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا (إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ) (الدخان: ۳) بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا (نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ) (الشعراء: ۱۹۳۔۱۹۴) جسے روح الامین نے اتارا، آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔
اس کے برعکس، جہاں تدریجی اور تفصیلی نزول مراد ہو، وہاں (تنزیل) کے الفاظ اختیار کیے گئے ہیں، جو خود تدریج اور مرحلہ وار نزول پر دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: (وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا) (الشعراء:۱۰۶) اور قرآن کو ہم نے جدا جدا رکھا ہے تاکہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے۔ اور ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:
(وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا) (الفرقان:۳۲)
اور کفار کہتے ہیں: اس (شخص) پر قرآن یکبارگی نازل کیوں نہیں ہوا ؟ (بات یہ ہے کہ) اس طرح (آہستہ اس لیے اتارا) تاکہ اس سے ہم آپ کے قلب کو تقویت دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنایا ہے۔
دو نزول کا راز، قرآن کے وجود کے مراتب:
تاہم یہ جواب خود ہمیں ایک اور زیادہ گہرے اور دقیق سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا وہ قرآن، جو شبِ قدر میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلبِ اطہر پر نازل ہوا، اسی صورت میں تھا جس میں آج ہمارے سامنے موجود ہے، یعنی سورتوں اور آیات میں تقسیم شدہ؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ قرآنِ کریم کا ایک نہایت بلند اور برتر وجودی مرتبہ ہے، جو اس مادی اور تقسیم شدہ صورت سے یکسر مختلف ہے جس میں وہ ہمارے درمیان موجود ہے۔ اور دراصل یہ حقیقت صرف قرآن تک محدود نہیں، بلکہ تمام مخلوقات پر صادق آتی ہے۔ اس راز کی طرف قرآنِ حکیم کی ایک جامع آیت ہماری رہنمائی کرتی ہے، جو اس باب کی کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ) (الحجر:۲۱)
اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں پھر ہم اسے مناسب مقدار کے ساتھ نازل کرتے ہیں۔"
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ ہر موجود کی ایک اصل اور خزانہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جب وہ اس خزانے سے عالمِ وجود میں آتا ہے تو اس پر تقدیر، حد بندی اور تقسیم کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہی شے اپنے اصل مقام، یعنی خزائنِ الٰہی میں ان تمام حدود و قیود سے پاک ہوتی ہے۔ اسی مفہوم کو ایک اور آیت مزید تقویت دیتی ہے، جہاں فرمایا گیا: (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ)۔(النخل:۹۶) جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔
یعنی جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ غیر محدود، دائمی اور کامل ہے، جبکہ جو کچھ ہمارے دائرۂ ادراک میں آتا ہے وہ حد بندی اور فنا کے تابع ہوتا ہے۔
اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر موجود کے وجود کے متعدد مراتب ہوتے ہیں، اور جیسے جیسے وہ اپنے اعلیٰ مرتبے سے نیچے کی طرف آتا ہے، ویسے ویسے اس پر حد بندی، تقدیر اور تقسیم کی قیود عائد ہوتی جاتی ہیں۔ اسی معرفتی بنیاد پر ہم شبِ قدر میں قرآن کے نزول کا راز سمجھ سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ قرآن، جسے روحِ امین نے اس بابرکت رات میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلبِ اطہر پر پہنچایا، اپنے وجود کے اعتبار سے اس مادی صورت سے کہیں بلند اور برتر تھا جو آج ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔
یہی قرآن ایک مدوّن کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، جو سورتوں، آیات اور الفاظ میں منقسم ہے۔ لیکن اپنے اعلیٰ مرتبے میں وہ ایک ایسا محکم اور کامل کلام ہے جو نہ تقسیم کا محتاج ہے اور نہ تفصیل کا، بلکہ اپنی اصل حقیقت میں ایک جامع، اور بلند ترین الٰہی کلام ہے۔ اس بلند حقیقت کی طرف متعدد قرآنی آیات نہایت واضح اشارہ کرتی ہیں۔
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ((ھود:۱) یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات مستحکم کی گئی ہیں پھر ایک باحکمت باخبر ذات کی طرف سے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ۔
یہاں "احکام"کو "تفصیل"کے مقابل رکھا گیا ہے، جو اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ قرآن ابتدا میں ایک محکم، غیر منقسم حقیقت تھا، پھر اسے تفصیل اور تقسیم کی صورت دی گئی۔ اسی طرح فرمایا: (وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ)۔(یونس:۳۷)
اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس قرآن کو اللہ کے سوا کوئی اور اپنی طرف سے بنا لائے بلکہ یہ تو اس سے پہلے جو (کتاب) آ چکی ہے اس کی تصدیق ہے اور تمام (آسمانی) کتابوں کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو قرآن ہمارے سامنے ہے، وہ دراصل ایک اعلیٰ حقیقت، یعنی "اصل کتاب" کی تفصیل ہے۔ اسی مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: (حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ)۔ (الزخرف:۱۔۴)
حا، میم۔اس روشن کتاب کی قسم ۔ ہم نے اس (قرآن) کو عربی قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔ اور بلاشبہ یہ مرکزی کتاب (لوح محفوظ) میں ہمارے پاس برتر، پر حکمت ہے۔
یعنی وہ کتاب اپنی اصل حقیقت میں ایک بلند، محکم اور انسانی ادراک سے ماورا حقیقت تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی فہم کے لیے عربی قرآن کی صورت میں ظاہر فرمایا۔ مزید فرمایا: (فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ)۔ (الواقعة: 75 ـ 79)
میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مقامات کی۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ یقینا بہت بڑی قسم ہے۔ کہ یہ قرآن یقینا بڑی تکریم والا ہے، جو ایک محفوظ کتاب میں ہے، جسے صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ یہ آیت اس غیبی اور بلند مقام کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں قرآن اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، اور جہاں تک رسائی ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔اور اسی سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے: (بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ(البروج: ۲۱۔۲۲)
بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے۔ لوح محفوظ میں (ثبت) ہے۔
جب ہم قرآنِ کریم کے وجود کے ان مراتب کو سمجھ لیتے ہیں تو بہت سی ایسی آیات کا مفہوم بھی ہمارے سامنے واضح ہو جاتا ہے جو بظاہر پیچیدہ محسوس ہوتی تھیں۔ان میں نمایاں طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: (وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا( )طه: 114)
اور آپ پر ہونے والی اس کی وحی کی تکمیل سے پہلے قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کریں اور کہدیا کریں: میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔
اور اسی طرح فرمایا: (لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ، إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ، فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ((القیامۃ: ۱۶۔۱۹)
ان دونوں آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قرآن کی آیات کو جلدی میں زبان پر نہ لائیں، اور نہ ہی ان کی تلاوت میں پیش قدمی کریں جب تک کہ وحی اپنی مقررہ تکمیل کے ساتھ ان تک نہ پہنچ جائے۔
یہ ہدایت یعنی جلدی سے منع کرنا اسی صورت میں پوری طرح معنی خیز بنتی ہے جب ہم یہ تسلیم کریں کہ یہ آیات پہلے ہی ایک اجمالی اور کلی صورت میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلبِ اطہر پر نازل ہو چکی تھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے مضامین سے آگاہ تھے اور ان پر احاطہ رکھتے تھے۔اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس بات سے روکا گیا کہ وہ ان آیات کو ان کے مقررہ وقت سے پہلے بیان نہ کریں ، یعنی اس وقت سے پہلے جب وہ دوبارہ، تدریجی اور تفصیلی نزول کے ساتھ، اللہ کے طے کردہ انداز میں نازل ہوں۔