الشيخ معتصم السيد أحمد
موجودہ دور کے دینی خطاب کا جائزہ لینے والا ہرشخص بآسانی ایک رجحان کو نمایاں طور پر محسوس کر سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ بعض دیندار لوگ، اپنے ایمان پر مبنی خالص نیت کے باوجود، بالآخر ایک سخت طرزِ خطاب اختیار کر لیتے ہیں، جو تعلق و اتحاد کے دائرے کو تنگ کر دیتا ہے، لوگوں کو چھوٹے چھوٹے خانوں میں تقسیم کرتا ہے، اور انہیں تیار شدہ عنوانات میں محدود کر دیتا ہے۔
اس رجحان کو محض "تدین" کا لازمی نتیجہ قرار دے کر نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ حقیقت میں یہ نفسیاتی، ثقافتی اور فکری عوامل کے ایک پیچیدہ تعلق کا نتیجہ ہے، جو تدین کو اس کے اصل مقام ، یعنی ہدایت اور رحمت کے سرچشمے ، سے ہٹا کر امتیاز اور اخراج کا ایک ذریعہ بنا دیتا ہے۔اگر ہم اس طرز عمل کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اس پورے سلسلے کو دوبارہ سمجھنا ہوگا کہ جس کے ذریعے انسان کا دینی شعور تشکیل پاتا ہے۔ تدین محض ایک نظری عقیدہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی شناخت کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔ اور شناخت اپنی فطرت کے اعتبار سے امتیاز چاہتی ہے، اور اپنے اور دوسرے کے درمیان حدود قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ امتیاز کی خواہش بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ انسانی ساخت کا ایک فطری حصہ ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہی خواہش خوف میں تبدیل ہو جائے، اور جب اپنی شناخت کی حفاظت کا مطلب دوسرے کو خارج (اقصاء) کرنا بن جائے۔
اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخراجی خطاب کی سب سے اہم نفسیاتی جڑوں میں سے ایک "خوف" ہے۔ یہ خوف مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے: شناخت کے کھو جانے کا خوف، گھل مل جانے (ذوبان) کا خوف، غلطی کا خوف، بلکہ بعض اوقات خود اللہ سے بھی خوف ، مگر ایک غیر متوازن انداز میں۔
یہی خوف انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے سخت اور غیر لچکدار یقین کی تلاش کرے جو کسی تعدد یا اختلاف کو برداشت نہ کرے، اور ایک بند فکری نظام تشکیل دے جو اسے تحفظ کا احساس دے۔ مگر اس فکری بندش کے ساتھ ہی ہر اختلافِ رائے یا فہم کو ایک موقع سمجھنے کے بجائے خطرہ تصور کیا جانے لگتا ہے، نہ کہ گہرے فہم تک پہنچنے کا ذریعہ۔
یہاں ایک خطرناک تبدیلی واقع ہوتی ہے: تدین، جو دراصل اللہ کے ساتھ ایک زندہ تعلق کا نام تھا وہ بدل کر ایک "دفاعی شناخت بن جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان کی توجہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کی صداقت پر کم، اور اپنے آپ کو ایک دیندار کے طور پر ثابت کرنے پر زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے دوسروں پر حکم لگانا اس شناخت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے؛ چنانچہ جوں جوں "درست" لوگوں کا دائرہ تنگ ہوتا جاتا ہے، انسان اپنے آپ کو زیادہ ممتاز اور حقیقت کے زیادہ قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔
اس قسم کا تدین اکثر اوقات دینی متون کی جزوی سمجھ کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے موقف کی تصدیق تلاش کرتا ہے، تو وہ ایسے نصوص کو چن لیتا ہے جو اس کے نظریے کی حمایت کرتی ہیں، اور ان وسیع سیاق و سباق کو نظرانداز کر دیتا ہے جو توازن پیدا کرتے ہیں۔
اسی طرح، وہ وعید کے نصوص کو اس کے اصل رحمت والے سیاق کے بغیر پڑھتا ہے، اور نصوصِ مفاصلہ (فرقہ بندی) کو ان نصوص کے ساتھ جو تعارف اور ہم آہنگی پر زور دیتی ہیں، جوڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یوں دین کی ایک مسخ شدہ تصویر بنتی ہے، جو اخراج (اقصاء) کو جواز فراہم کرتی ہے، اور بعض اوقات اسے مذہبی فرض کے طور پر پیش کرتی ہے۔اور اس مظہر میں ثقافتی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض دینی ماحول ایسے ہوتے ہیں جو اپنے افراد کو دنیا کو ایک سخت دو قطبی تصور کے تحت جگہ کے طور پر دیکھنے کی تربیت دیتے ہیں: ہم بمقابلہ وہ، حق بمقابلہ باطل، نور بمقابلہ تاریکی۔
یہ تقسیم، اگرچہ بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہے، لیکن ایک ایسا شعور پیدا کرتی ہے جو پیچیدگی کو برداشت نہیں کر سکتا، اور جس میں تدریجی تبدیلی یا اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ، یہ شعور پہلے خطاب میں بدلتا ہے، پھر رویے میں، اور آخر کار دنیا کے بارے میں ایک عمومی موقف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ایک اور اہم عامل بعض دینی فریم ورک میں تنقیدی سوچ کی تربیت کا فقدان بھی ہے۔ جب انسان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ حقیقت مکمل اور حتمی ہے، اور اس کا کام صرف قبول کرنا اور دہرانا ہے، تو وہ اختلاف کو سمجھنے یا اس سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتا۔اور جب اسے مختلف آراء کا سامنا ہوتا ہے، تو اس کے پاس انہیں سمجھنے کے لیے کوئی اوزار نہیں ہوتے، لہٰذا وہ سب سے آسان راستہ اختیار کرتا ہے: انکار اور اخراج (اقصاء)۔ یوں، اخراج سمجھ بوجھ کا متبادل بن جاتا ہے۔
اسی طرح اخلاقی برتری کا احساس بھی اس خطاب کی تشکیل میں ایک پوشیدہ کردار ادا کرتا ہے۔ بعض دیندار، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ "حق" کی نمائندگی کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں۔ اگر اس احساس کو قابو میں نہ رکھا جائے تو یہ ایک قسم کی تکبر میں بدل جاتا ہے، جو انسان کو سننے کے لیے کم اور فیصلے سنانے کے لیے زیادہ مائل کر دیتا ہے۔ اس تکبر کے ساتھ، دینی خطاب اپنی اخلاقی روح کھو دیتا ہے اور علامتی غلبے کا ایک آلہ کار بن جاتا ہے۔لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ ہم نوٹ کریں کہ یہ طرزِ خطاب دین کے جوہر کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ دین کو سمجھنے اور اس کے استعمال کرنے کے ایک مخصوص طریقے کی عکاسی کرتا ہے۔ قرآن انسان کو ایسا پیش نہیں کرتا کہ وہ خطا سے محفوظ ہے، اور نہ ہی ایسا کہ اسے حق کو اپنے میں منحصرکرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بلکہ وہ انسان کے لیے نظرِ ثانی کا دروازہ کھولتا ہے، اسے اپنی کمزوری یاد دلاتا ہے، اور عاجزی کی دعوت دیتا ہے:
﴿فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ﴾ (الحجر: ٣٥)۔
اسی طرح، قرآن اختلاف کو زندگی کے قوانین میں شامل کرتا ہے: ﴿وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ (المائدة: ٥١)،
اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کو انسانی امتحان کا حصہ بناتا ہے۔
جب دینی خطاب اس متوازن قرآنی نظرئے سے الگ ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی ہدایت بخش صلاحیت کھو دیتا ہے اور ایک بند اور محدود خطاب میں بدل جاتا ہے۔ اس صورت میں، خود تدین بھی مسخ شدہ شکل اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ یہ دین کو اسے ایک ایسی ناپسندیدہ تصویر میں پیش کرتا ہے جو اس کی گہرائی اور انسانیت کو ظاہر نہیں کرسکتی۔ اس مظہر کو سمجھنے کے اہم پہلوؤں میں سے ایک دینی شناخت اور وجودی اضطراب کے درمیان تعلق ہے۔ موجودہ دور کا انسان ایک تیزی سے بدلتی دنیا میں رہ رہا ہے، جہاں تبدیلیاں مسلسل ہوتی ہیں اور معنی و غایت کے بارے میں گہرے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ایسے تناظر میں، تدین ایک نفسیاتی پناہ گاہ میں بدل سکتا ہے، جو انسان کو استحکام کا احساس دیتا ہے۔لیکن اگر یہ تدین گہری آگاہی پر مبنی نہ ہو، تو یہ ایک دفاعی ردعمل میں بدل جاتا ہے، جو ہر اس چیز کو مسترد کر دیتا ہے جو اس استحکام کو خطرے میں ڈالے، چاہے وہ محض ایک سوال ہو یا اختلافِ رائے۔
یہاں اخراج (اقصاء) خود کو اضطراب سے بچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے، نہ کہ موقف کی قوت کا اظہار۔ جو انسان اپنے فہم پرزیادہ پراعتماد ہوتا ہے وہ مکالمے سے نہیں ڈرتا، اور اختلاف کو خطرہ نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع سمجھتا ہے۔ لیکن جو انسان اضطرابی ہوتا ہے وہ بندش کی طرف مائل ہوتا ہے، کیونکہ کھلا پن اس کے اعتقاد کی نازکیت کو ظاہر کر دیتا ہے۔اسی لیے اس مظہر کا علاج صرف اخراجی خطاب پر تنقید کرنے میں نہیں بلکہ اس کی جڑوں کو سمجھنے اور ایک مختلف دینی شعور کی تعمیر میں ہے۔ ایک ایسا شعور جو تدین کو خوف کے بجائے معنی کے ساتھ، تکبر کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ، اور جمود کے بجائے تلاش و تحقیق کے ساتھ جوڑے۔ ایک ایسا شعور جو یہ سمجھتا ہو کہ حقیقت اتنی وسیع ہے کہ اسے کسی فرد یا جماعت کے فہم میں محدود نہیں کیا جا سکتا، اور اس کے قریب پہنچنے کے لیے عاجزی ضروری ہے، نہ کہ اخراج شدت پسندی۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ دینی خطاب میں "تزکیہ" کے تصور کو دوبارہ اہمیت دی جائے، نہ صرف ایک مجرد روحانی تصور کے طور پر، بلکہ ایک مسلسل خود شناسی اور نفس کی جانچ کے عمل کے طور پر۔ وہ دیندار جو اپنی اصلاح میں مشغول ہوتا ہے، دوسروں پر حکم لگانے میں کم مشغول رہتا ہے۔ یہ تبدیلی ، دوسروں کا محاسبہ چھوڑ کر نفس کا محاسبہ اپنانا ، دینی خطاب میں توازن بحال کرنے کے سب سے اہم طریقوں میں سے ایک ہے۔
آخرکار، کہا جا سکتا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ انسان کیوں دیندار ہوتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان کس طرح دیندار ہوتا ہے؟ کیونکہ تدین بذاتِ خود رحمت اور کھلے ذہن کا راستہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کا توازن بگڑ جائے تو یہ ایک اخراجی (اقصائی) خطاب میں بدل سکتا ہے۔ اور دونوں کے درمیان فرق نصوص میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ انہیں کس طرح سمجھا جاتا ہے اور کس نفسیاتی حالت میں پڑھا جاتا ہے۔
جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، تو وہ اپنے دین کے ساتھ تعلق پر دوبارہ غور کرنا شروع کر دیتا ہے، نہ اسے کمزور کرنے کے لیے، بلکہ اسے گہرا کرنے، خوف سے آزاد کرنے، زیادہ وسیع بنانے، اور انسان اور حقیقت دونوں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بنانے کے لیے۔