واپس
خوف کا علاج ۔۔۔ اقدام

خوف کا علاج ۔۔۔ اقدام

خوف انسان کی زندگی میں کوئی اچانک آنے والی کیفیت نہیں، بلکہ یہ انسان کی فطرت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ یہ کبھی انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کبھی اسے مفلوج کر دیتا ہے۔ لہذا اصل مسئلہ خوف کے وجود میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوف کو رک جانے کا اشارہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اسے ایک ایسے دروازے کے طور پر دیکھتے ہیں جسے عبور کرنا چاہیے۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

خوف انسان کی زندگی میں کوئی اچانک آنے والی کیفیت نہیں، بلکہ یہ انسان کی فطرت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ یہ کبھی انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کبھی اسے مفلوج کر دیتا ہے۔ لہذا اصل مسئلہ خوف کے وجود میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوف کو رک جانے کا اشارہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اسے ایک ایسے دروازے کے طور پر دیکھتے ہیں جسے عبور کرنا چاہیے۔

یہیں پر امام علی علیہ السلام کے اس گہرے قول کی حکمت واضح ہوتی ہے:)اذا خفت من شیئ فقع فیہ(اگر تم کسی چیز سے ڈرو تو اس میں داخل ہو جاؤ۔ یہ جملہ ہرگز بے احتیاطی یا جلدبازی کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ یہ ہمیں خوف کی حقیقت کو نئے انداز سے سمجھنے اور اپنے نفس کے ساتھ زیادہ باشعور تعلق قائم کرنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ہر اس چیز سے بچنے کی طرف مائل ہوتا ہے جس سے اسے خوف محسوس ہو۔ یہ ایک فطری نظام ہے جس کا مقصد حفاظت کرنا ہے، لیکن اکثر اوقات یہی چیز ایک ایسی رکاوٹ بن جاتی ہے جو انسان کو ترقی کرنے سے روک دیتی ہے۔کیونکہ ہر وہ چیز جس سے انسان ڈرتا ہے، حقیقی خطرہ نہیں ہوتی؛ بلکہ بہت سی چیزیں جن سے ہم خوف کھاتے ہیں، محض امکانات، خیالات، یا ماضی کے تجربات ہوتے ہیں جنہیں ہم مستقبل پر منطبق کر دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خوف بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک نادیدہ طاقت میں بدل جاتا ہے جو انسان کو گھیر لیتی ہیں اور یہ طے کرنے لگتی ہیں کہ وہ کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا۔اور یہاں آکر یہ جملہ اس پورے انداز کو توڑ دیتا ہے: فقع فیہ (پس اس میں داخل ہو جاؤ) یعنی خوف پر رک نہ جاؤ، بلکہ خود اسی تجربے میں قدم رکھو، اس کا سامنا کرو، اسے آزما کر دیکھو۔کیونکہ بہت سے خوف ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی حیقیت باہر سے سمجھ میں نہیں آتی، بلکہ اندر داخل ہونے پر وہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ جو چیز دور سے بہت بڑی نظر آتی ہے، جب اسے جیا جائے تو سکڑ جاتی ہے۔ اور جو چیز خیال میں خوفناک لگتی ہے، حقیقت میں اس کی ہیبت کا بڑا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔

خوف اکثر خود اس چیز سے وابستہ نہیں ہوتا، بلکہ اس تصویر سے جڑا ہوتا ہے جو انسان نے اس کے بارے میں اپنے ذہن میں بنا لی ہوتی ہے۔ انسان کبھی ناکامی سے اس لیے ڈرتا ہے کہ اس نے اسے اپنی قدر و قیمت کے خاتمے سے جوڑ دیا ہوتا ہے، یا معاشرے کی جانب سے رد کیے جانے سے جوڑ رکھا ہوتا ہے، اس لیے خوف کھاتا ہے اور اسے اپنی حیثیت کے کھو جانے کے برابر سمجھتا ہے، یا سامنا کرنے سے اس لیے گھبراتا ہے کہ وہ اس سے بچنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔

ان تمام صورتوں میں خوف اصل واقعے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس معنی سے ہوتا ہے جو اس کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ اسی لیے محض الفاظ کے ذریعے خود کو تسلی دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو عمل کے ذریعے ان معانی کو نئے سرے سے پرکھنے اور آزمانے کی ضرورت ہوتی ہے۔جب انسان اس چیز میں قدم رکھتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے، تو وہ صرف اس حقیقت کو درک نہیں کرتا  کہ چیز اتنی خطرناک نہیں جتنی وہ سمجھ رہا تھا، بلکہ وہ ایک اور گہری حقیقت بھی دریافت کرتا ہے: کہ وہ خود اس کے انجام دینے پرقادر  بھی ہے۔یہ تبدیلی  ،خوف سے قدرت تک ،  صرف سوچنے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ صلاحیت نظری طور پر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ تجربے کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔

اسی لیے خوف میں قدم رکھنا محض ایک وقتی جرأت نہیں، بلکہ نفس کی ازسرِ نو تشکیل کا عمل ہے۔ جو انسان اپنے خوف کا سامنا کرتا ہے، وہ اپنی ذات کی حدود کو وسیع کرتا ہے اور اس بات کو نئے سرے سے متعین کرتا ہے کہ وہ کیا کچھ برداشت کر سکتا ہے۔

ہر تجربے کے ساتھ خوف کا دائرہ سکڑتا جاتا ہے اور اعتماد کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ دنیا آسان ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ انسان خود زیادہ باصلاحیت اور مضبوط ہو گیا ہے۔

چنانچہ بعض خوف ایسے ہوتے ہیں جو دور بھاگنے سے حل نہیں ہوتے، بلکہ ان کا حل سامنا کرنے میں ہے۔ کیونکہ بھاگنا انہیں کم نہیں کرتا بلکہ مزید مضبوط کر دیتا ہے۔ ہر بار جب انسان اس چیز سے بچتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے، تو وہ اپنے اندر یہ خیال راسخ کرتا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وقت کے ساتھ یہی اجتناب ایک طرزِ زندگی بن جاتا ہے، جس کے ساتھ اختیارات محدود ہو جاتے ہیں اور امکانات سکڑ جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، اگرچہ سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ اس پورے انداز کو توڑ دیتا ہے۔ کیونکہ یہ انسان کو ایک ایسا براہِ راست تجربہ دیتا ہے جو اس کے اپنے بارے میں قائم کردہ تصورات کے خلاف ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ ویسا نہیں ٹوٹا جیسا وہ سمجھ رہا تھا، یا وہ اس صورتِ حال کو سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا، یا نتائج اتنے تباہ کن نہیں تھے جتنے اس نے تصور کیے تھے۔یہ چھوٹی چھوٹی دریافتیں جمع ہو کر ایک حقیقی اعتماد کو جنم دیتی ہیں، جو حالات پر نہیں بلکہ تجربے پر قائم ہوتا ہے۔اور اس فکر کا ایک گہرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف بیرونی حالات تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے اپنے نفس کے ساتھ سامنا کرنے کو بھی شامل کرتا ہے۔کیونکہ کچھ اندرونی خوف ایسے ہوتے ہیں جو بیرونی خوف سے کم شدید نہیں ہوتے: جیسے اپنی غلطی تسلیم کرنے کا خوف، اپنے عقائد پر نظرِ ثانی کرنے کا خوف، یا مشکل سوالات اٹھانے کا خوف۔ یہ خوف انسان کو بظاہر ایک آرام دہ دائرے میں رکھتا ہے، لیکن حقیقت میں وہی اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

ان میدانوں میں قدم رکھنا ایک مختلف قسم کی ہمت کا متقاضی ہوتا ہے،فکری اور نفسیاتی ہمت۔ یہ کہ انسان اپنے آپ کو ویسا دیکھنے کی جرأت کرے جیسا وہ حقیقت میں ہے، نہ کہ جیسا وہ خود کو دیکھنا پسند کرتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرے اور اپنی بعض مسلّمات پر نظرِ ثانی کرے۔ یہ سامنا، اگرچہ کبھی تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر یہی حقیقی نشوونما کا دروازہ کھولتا ہے، کیونکہ تبدیلی کا آغاز خود سے سچائی اختیار کرنے سے ہی ہوتا ہے۔

اسی طرح اس حکمت کا ایک اور گہرا وجودی پہلو بھی ہے۔ انسان اکثر نامعلوم سے ڈرتا ہے ، مستقبل سے، ان چیزوں سے جن کی پیش گوئی ممکن نہیں۔ یہ خوف اسے اس چیز سے حد سے زیادہ وابستہ کر دیتا ہے جسے وہ جانتا ہے، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو۔ حالانکہ زندگی اپنی فطرت میں ان امور سے بھری ہوئی ہے جن پر مکمل قابو ممکن نہیں، اور اس پہلو سے مکمل بچنا بھی ممکن نہیں۔

لہٰذا حل یہ نہیں کہ انسان ہر چیز کو قابو میں کرنے کی کوشش کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایسی صلاحیت پیدا کرے جو اسے نامعلوم حالات کے ساتھ جینے اور ان کا سامنا کرنے کے قابل بنا دے۔اس درجے پر خوف میں قدم رکھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ انسان ایک حد تک غیر یقینی کیفیت کے ساتھ جینا سیکھ لے، بغیر اس کے کہ وہ اپنا توازن کھو بیٹھے۔ وہ حرکت کرے، تجربہ کرے، اور میدان میں اترے، اگرچہ اس کے پاس تمام جوابات موجود نہ ہوں۔ یہی صلاحیت ایک پختہ انسان کی پہچان ہے، کیونکہ وہ مکمل وضاحت کا انتظار نہیں کرتا، بلکہ موجود امکانات کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے اور چلتے چلتے راستہ دریافت کرتا ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ شعوری جرأت اور اندھی جلدبازی میں کیا فرق ہے۔ حکمت نہ تو بے احتیاطی کی دعوت دیتی ہے اور نہ ہی خوف کو بالکل ختم کرنے کی، بلکہ اسے سمجھنے اور درست رخ دینے کی تعلیم دیتی ہے۔ بعض حالات میں خوف ایک مفید تنبیہ ہو سکتا ہے، مگر اسے انسان کے فیصلوں پر مکمل حاکم نہیں بننا چاہیے۔

اصل فرق شعور کا ہے: یہ کہ انسان پہچان لے کہ کب خوف ایک انتباہ ہے اور کب ایک رکاوٹ۔اور اس تناظر میں، خوف میں قدم رکھنا ایک طرح کی آزادی بن جاتا ہے۔ یہ خود خوف کے احساس سے آزادی نہیں، بلکہ اس کی بالادستی سے نجات ہے۔ یعنی خوف موجود رہے، مگر حرکت کو نہ روکے۔ انسان ہچکچاہٹ محسوس کرے، مگر اس کی وجہ سے رک نہ جائے۔ یہ توازن ایک ہی بار میں حاصل نہیں ہوتا، بلکہ تجربات کے ساتھ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے۔اور جب انسان اس زاویۂ نگاہ کو اختیار کر لیتا ہے تو اس کا زندگی کے ساتھ تعلق بدل جاتا ہے۔ وہ نہ تو مثالی حالات کا انتظار کرتا ہے اور نہ ہی مکمل ضمانتوں کی تلاش میں رہتا ہے، بلکہ وہ کوشش کرنے کے لیے زیادہ تیار ہو جاتا ہے، غلطی کو زیادہ قبول کرتا ہے، اور تجربات کے لیے زیادہ کھلا ہو جاتا ہے۔یہی کشادگی اسے ایسے دروازے دکھاتی ہے جو وہ کبھی نہ دیکھ پاتا، اگر وہ اپنے خوف کا قیدی بنا رہتا۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ جملہ ایک گہرا اصول بیان کرتا ہے: کہ جس چیز سے ہم ڈرتے ہیں، وہی دروازہ ہو سکتا ہے جس میں قدم رکھ کر ہمیں ترقی حاصل ہو۔ نہ کہ خوف خوبصورت ہے، بلکہ اس پر قابو پانے سے ہمیں اپنے بارے میں وہ چیزیں معلوم ہوتی ہیں جو ہم پہلے نہیں جانتے تھے۔ اور کچھ رکاوٹیں جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پر لازم ہیں، دراصل وہ صرف خوف کی کھینچی ہوئی حدیں ہیں، اور اگر ہم میں یہ ہمت ہو کہ ان کی طرف قدم بڑھائیں، تو انہیں عبور کیا جا سکتا ہے ، اور ہم کامیابی کی جانب ان حدوں کو عبور کر کے ہی اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں نہ ان ان حدوں سے دور کھڑے رہ کر ۔


شیئر: