واپس
فکر سے کردار تک: علم اور ارادے کی کشمکش

فکر سے کردار تک: علم اور ارادے کی کشمکش

اکثر انسان ایک عجیب اندرونی تضاد کا شکار ہوتا ہے۔جب وہ کسی خیال کو مانتا ہے،تو وہ نہ صرف اسے درست سمجھتا ہے بلکہ اس کا بھرپور دفاع بھی کرتا ہے مگر پھر بھی اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ نہیں کر پاتا۔ وہ سچائی کی اہمیت پر یقین تورکھتا ہے لیکن پھر بھی جھوٹ بول دیتا ہے،اسی طرح انصاف کو مانتا ہے مگر اپنے مفاد کے خلاف ہو تو ظلم کر بیٹھتا ہے اور عبادت کی اہمیت سے آگاہ ہونے کے باوجود سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

اکثر انسان ایک عجیب اندرونی تضاد کا شکار ہوتا ہے۔جب وہ کسی خیال کو مانتا ہے،تو وہ نہ صرف اسے درست سمجھتا ہے بلکہ اس کا بھرپور دفاع بھی کرتا ہے مگر پھر بھی اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ نہیں کر پاتا۔ وہ سچائی کی اہمیت پر یقین تورکھتا ہے لیکن پھر بھی جھوٹ بول دیتا ہے،اسی طرح انصاف کو مانتا ہے مگر اپنے مفاد کے خلاف ہو تو ظلم کر بیٹھتا ہے اور عبادت کی اہمیت سے آگاہ ہونے کے باوجود سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ تقریباً ہر انسان کی زندگی میں مختلف شکلوں میں بار بار پیش آنے والا ایک عام انسانی تجربہ ہے، اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی کیوں کرتا ہےبلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ انسان کی سوچ اور یقین ہمیشہ عمل میں کیوں نہیں بدلتے اور وہ اپنے مانے ہوئے اصولوں پر عمل کرنے میں کیوں ناکام رہ جاتا ہے۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی خیال یا بات کو مان لینا ایک چیز ہے اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنا بالکل دوسری چیز ہے۔ انسان کا ذہن سچائی کو سمجھ سکتا ہے اور اسے نظری طور پر قبول بھی کر لیتا ہے لیکن انسان کا رویہ صرف علم سے نہیں بدلتا۔ انسان کا صرف عقل نہیں بلکہ اس میں ارادہ، جذبات، خواہشات اور اس کا ماحول بھی شامل ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی بات کو ماننے سے لے کر اس پر عمل کرنے تک کا سفر آسان نہیں ہوتا بلکہ اس میں بہت سے نفسیاتی، سماجی اور ذاتی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف سچ کو جان لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کرنا ایک الگ اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ علم خودبخود انسان کو عمل کی طرف لے جاتا ہے۔ یعنی اگر کسی نے جان لیا کہ کوئی بات درست ہے تو وہ لازمی طور پر اس پر عمل کرے گا اور اگر کسی بات کو غلط سمجھا تو اسے ترک کرے گا۔ لیکن انسانی تجربہ بتاتا ہے کہ بات اتنی آسان نہیں ہے۔ انسان صحیح راستہ بخوبی جان سکتا ہےمگر پھر بھی اس پر عمل نہیں کرتا۔ کچھ رویوں کے خطرات کو سمجھنے کے باوجود بھی وہ انہیں جاری رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ ہمیشہ علم کی کمی میں نہیں بلکہ علم اور ارادہ کے پیچیدہ تعلق میں ہے۔

علم روشنی کی طرح راستہ دکھاتا ہے لیکن لازمی نہیں کہ انسان کو اس پر چلنے کی طاقت دے۔ انسان سچائی کو صاف طور پر دیکھ سکتا ہے مگر اس میں وہ ارادہ نہیں ہوتا جو اسے اس پر عمل کرنے کے قابل بنائے۔ اسی لیے روزمرہ زندگی میں ہمیں ایسے کئی افراد نظر آتے ہیں جن کے پاس شعور اور آگاہی بہت زیادہ ہے لیکن ان کی عملی زندگی اس شعور کی عکاسی نہیں کرتی۔ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہونا چاہیے مگر ہمیشہ ایسے کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اس تضاد کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اس بات کے درمیان جدوجہد کرتا ہے جو وہ جانتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے۔ عقل کسی قدر کی اہمیت کو سمجھ سکتی ہےمگر خواہشات، مفادات اور دباؤ انسان کو کسی اور سمت لے جا سکتے ہیں۔ یہاں انسان کی مرکب فطرت سامنے آتی ہے: وہ صرف ایک منطقی مشین نہیں ہے جو ہمیشہ منطق پر عمل کرےبلکہ ایک ایسا وجود ہے جسے مختلف محرکات کھینچتےہیں۔ اسی لیے انسانی رویہ اکثر اس پیچیدہ توازن کا نتیجہ ہوتا ہے جو انسان کے علم اور اس کی خواہشات، خوف یا امیدوں کے درمیان بنتا ہے۔

یہیں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن انسان کے اندرونی تصادم کے بارے میں کیوں بات کرتا ہے اور اسے زندگی کی ایک مستقل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انسان ہمیشہ اس سچائی کے مطابق عمل نہیں کرتا جسے وہ جانتا ہے بلکہ کبھی کبھار خواہش، خوف یا مفاد کے اثر میں اس سے ہٹ سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن اس مرکب فطرت کی نشاندہی کرتا ہے جب وہ فرماتا ہے:﴿ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿۷﴾ فَاَلۡ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴾ (سورہ شمس ۷، ۸)اور نفس کی اور اس کی جس نے اسے معتدل کیا، ۸۔ پھر اس نفس کو اس کی بدکاری اور اس سے بچنے کی سمجھ دی،

لہٰذا انسان کے اندر دونوں راستوں پر چلنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ صرف ایک عقل نہیں جو سچائی کو سمجھ کر خودبخود اس کے پیچھے چلتی جائے۔

ایک اور وجہ جو اصول اور رویے کے درمیان فرق کو سمجھاتی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے اصول انسان کی زندگی میں سطحی رہ جاتے ہیں۔ انسان کسی خیال کو ذہنی سطح پر قبول کر سکتا ہےلیکن اگر اس نے اسے اپنے اندر گہرائی سے محسوس نہ کیا ہو تو یہ اس کے عملی فیصلوں پر کم اثر ڈالتی ہے۔ حقیقی اصول صرف ایک سمجھا ہوا خیال نہیں بلکہ ایک ایسی بصیرت ہے جو انسان کے شعور میں جڑ پکڑتی ہے اور اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لوگ عمل کرنے کی اپنی صلاحیت میں مختلف ہوتے ہیں جس پر وہ ایمان رکھتے ہیں۔ کچھ اصول انسان کے اندر اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ اس کی شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں جبکہ دیگر اصول صرف عام خیالات رہ جاتی ہیں اور رویے کو ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ اسی لیے مسئلہ ہمیشہ ایمان کی کمزوری میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ خیال انسان کی نفسیات میں کس حد تک موجود اور مضبوط ہے۔

اسی طرح سماجی ماحول بھی اس تضاد میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان خلا میں نہیں رہتا بلکہ ایسے معاشرے میں جیتا ہے جو اس کے رویے پر مستقل دباؤ ڈالتا ہے۔ ممکن ہے کہ انسان کسی قدر پر یقین رکھتا ہو لیکن وہ ایسے ماحول میں ہو جو اس قدر کی حوصلہ افزائی نہ کرے یا اس کے لیے سزائیں طے کرے۔ ایسی صورتوں میں اصول پر قائم رہنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ انسان صرف اندرونی کشمکش کا سامنا نہیں کرتا بلکہ سماجی دباؤ کا بھی مقابلہ کرتا ہے۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ واضح اخلاقی نظریات رکھتے ہیں مگر جب انہیں لگتا ہے کہ ان پر عمل کرنے سے انہیں سماجی یا مادی نقصان ہوگا تو وہ ہچکچاتے ہیں۔ انسان فطرتاً اپنے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کا خواہش مند ہوتا ہے، اسی لیے ماحول کے خلاف جانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، چاہے وہ اس کے اصولوں کے مطابق ضروری ہی کیوں نہ ہو۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کے پاس صحیح اصول ہو سکتا ہے مگر اس کے پاس اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے کی مہارتیں موجود نہیں ہوتیں۔ زندگی ہمیشہ اتنی سادہ نہیں کہ صرف یہ جان لینا کافی ہو کہ کیا صحیح ہےاور اسے کر لینا۔ بہت سی اقدار ایسی ہیں جن کے لیے تربیت، صبر اور طویل مشق کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ مستقل رویے میں بدل جائیں۔ مثال کے طور پر، سچ بولنا صرف ایک لمحاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے جس کے لیے حوصلہ اور استقامت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح صبر، عدل اور امانت جیسی اقدار بھی محض یقین کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے نفس کے ساتھ مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔

اسی لیے قناعت اور عمل کے درمیان فرق ہمیشہ ریاکاری یا ایمان کی کمزوری کی علامت نہیں ہوتا بلکہ یہ انسانی تجربے کی فطرت کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ انسان اقدار پر عمل کرنا ایک طویل سفر کے دوران سیکھتا ہےجو کوشش، غلطی اور اصلاح پر مبنی ہوتا ہے۔ کبھی کبھار وہ اپنی قناعت کے مطابق عمل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہےمگر اس ناکامی سے سبق حاصل کرتا ہے اور دوبارہ صحیح راستے پر لوٹ آتا ہے۔

یہ حقیقت ہمیں انسان کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے۔ انسانی زندگی اس سادگی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسان کسی قدر پر اپنے ایمان میں سچا ہو سکتا ہے مگر پھر بھی وہ اس قدر کو اپنی زندگی میں عملی طور پر ظاہر کرنے کا طریقہ سیکھنے کے مراحل میں ہوتا ہے۔

یہاں سے کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ وہ حق کو جانےبلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اس حق کے مطابق جینے کی صلاحیت پیدا کرے۔ یہ صلاحیت ایک ہی دفعہ میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ تربیت، تجربے اور خود آگاہی کے مسلسل عمل سے بنتی ہے۔ جتنا زیادہ انسان خود کو اور اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اتنا ہی وہ اس فرق کو کم کرنے اور اپنے ایمان کے مطابق عمل کرنے کے قابل بنتا ہے۔

یہیں پر اخلاقی شعور کی اہمیت سامنے آتی ہے، جو صرف اقدار کو دہرانے تک محدود نہیں بلکہ ان رکاوٹوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو ان کے عملی نفاذ میں حائل ہوتی ہیں۔ یعنی انسان جب اپنے ایمان کے مطابق عمل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو محض جرم یا شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے اس ناکامی کو خود شناسی کے لیے ایک موقع میں بدل سکتا ہے: کس چیز نے اسے اصول پر قائم رہنے سے روکا؟ کیا یہ خوف تھا؟ مفاد؟ عادت؟ یا ارادے کی کمی؟ اس قسم کا شعور قناعت اور عمل کے درمیان فرق کو کم کرنے کی پہلی اہم قدم ہو سکتا ہے۔

انسان صرف صحیح خیالات رکھنے سے بہتر نہیں بنتا بلکہ وہ اس وقت بہتر ہوتا ہے جب وہ آہستہ آہستہ ان خیالات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو۔ یہ عمل آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لیے مسلسل نفس کے ساتھ جدوجہد اور اپنی کمزوریوں کا صبر سے مقابلہ درکار ہوتا ہے۔ مگر یہی جدوجہد ہی انسانی تجربے کو حقیقی معنی دیتی ہے۔ اقدار کو آسان لمحات میں آزمایا نہیں جاتیں بلکہ جب ان پر عمل کرنا مہنگا یا مشکل ہو اس وقت وہ حقیقی طور پر پرکھی جاتی ہیں۔

اسی لیے انسان کا کبھی کبھار اپنے اصول کے مطابق عمل کرنے میں ناکام ہونا ہمیشہ اخلاقی شکست کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ اس سفر کا حصہ ہو سکتا ہے جس میں انسان سیکھتا ہے کہ وہ اپنے آپ کے ساتھ زیادہ ایماندار کیسے ہو اور اس کے لیے زیادہ قابل کیسے بنے کہ وہ اپنی نظر میں صحیح زندگی گزارے۔ انسان کی اصل یہ نہیں ہے کہ وہ کبھی غلطی نہ کرےبلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایمان کے راستے پر واپس لوٹ آئے اور ان اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش جاری رکھے جن میں اسے اپنی زندگی کا مقصد نظر آتا ہے۔


شیئر: